احمد آبادیکم جون(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ایک خصوصی ایس آئی ٹی عدالت2002کے گودھرا سانحہ کے بعدگلبرگ سوسائٹی میں ہوئے فسادات کے معاملے میں کل اپنافیصلہ سنا سکتی ہے۔اس معاملے میں کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری سمیت69افرادشہیدہوگئے تھے۔خصوصی عدالت کے جج پی بی دیسائی22ستمبر2015کو ٹرائل ہونے کے آٹھ ماہ سے بھی زیادہ وقت کے بعدیہ فیصلہ سنائیں گے۔کیس کی نگرانی کر رہے سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی عدالت کوہدایت دی تھی کہ وہ اپنافیصلہ31مئی تک سنائے۔اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے66ملزمان کو نامزدکیاتھاجن میں سے نو ملزم گزشتہ14سال سے جیل میں ہیں جبکہ باقی ملزم ضمانت پرہیں۔ایک ملزم بپن پٹیل اسروا سیٹ سے بی جے پی کا کارپوریشن ممبرہے۔سال2002میں فسادات کے وقت بھی بپن پٹیل کارپوریشن رکن تھا۔گزشتہ سال اس نے مسلسل چوتھی بار جیت درج کی۔گزشتہ ہفتے عدالت نے نارائن ٹانک اور بابو راٹھور نام کے دو ملزمان کی جانب سے دائروہ عرضی مستردکردی تھی جس میں انہوں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے نارکو انالسس اور برین میپنگ ٹیسٹ کرانے کی فریاد کی تھی. عدالت نے کہا کہ اب جب فیصلہ آنے والا ہے تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔گلبرگ سوسائٹی معاملہ2002کے گجرات فسادات کے ان نو مقدمات میں سے ایک ہے جن کی جانچ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل شدہ ایس آئی ٹی کر رہی ہے۔